اشکوں کے چراغ — Page 303
303 حد نظر سے دور افق پار دیکھنا آواز کس نے دی ہے مرے یار! دیکھنا اک بے وطن ہے درد سے لا چار دیکھنا تو بھی چمن میں نرگس بیمار دیکھنا اک اور شام جیسے مکدر سی ہو گئی اک مرحلہ تھا پرسش غم خوار دیکھنا ہر جراتِ سوال پہ پیش حضورِ دوست حیرت سے اپنے آپ کو ہر بار دیکھنا جی چاہتا ہے دیکھنا ان کو قریب سے اور ان کا مسکرا کے مرے پار دیکھنا مضطر کو اپنی پیچ مدانی ناز ہے اترا رہا ہے بر سر بازار دیکھنا