اشکوں کے چراغ — Page 302
☆ 302 SaleR عاشقی جتنی وفادار ہوئی جاتی ہے دلبری اتنی ہی دلدار ہوئی جاتی ہے میرے محبوب! مجھے چھوڑ گئے ہو تنہا کیوں خفا بندے سے سرکا ر ہوئی جاتی ہے عشق مظلوم ہے بے بس ہے نہ جانے کب سے بے بسی عادتِ ابرار ہوئی جاتی آج بھی جلتے ہیں پروانے حضور جمع حسن سے عشق کی تکرار ہوئی جاتی ہے عاشقو! یار کے دربار میں فریاد کرو عاشقی طعنہ اغیار ہوئی جاتی ہے آج پھر زور پہ ہے معرکہ ظلمت و نور منتشر مجلس احرار ہوئی جاتی ہے رقص ابلیس کو اب روک بھی دے اے مولا ! قوم کی قوم گنہگار ہوئی جاتی ہے خود ہی آجاؤ یا مضطر کو بلا لواے دوست! زندگی حسرتِ دیدار ہوئی جاتی ہے (۱۹۵۳ء) بروزن فعلن