اشکوں کے چراغ — Page 298
298 کیسے بات کروں ٹھنڈے انسانوں سے خوف آتا ہے بے آباد مکانوں سے جاگ رہی ہیں سُونے گھر کی تصویریں چہرے گھور رہے ہیں روشن دانوں سے تنہا آنسو کیسے بچ کر نکلے گا پلکوں کے ان دو رویہ دربانوں سے آئین کی لاش اُٹھائے پھرتے ہو لوگ حکومت کرتے ہیں فرمانوں سے کوہ ندا کے بن باسی بھی بولیں گے آخر شور اٹھے گا بند مکانوں سے دانش مندو! اس کا استقبال کرو جھونکا جو آیا ہے ویرانوں سے آخر پتھر پگھلا ضبط تکلم مضطر ! کشتی بچ نکلی طوفانوں سے