اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 286 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 286

286 دوستی نہ سہی، دشمنی ہی سہی کوئی تو باہمی واسطہ رہ گیا اور پھر یوں ہوا دیکھتے دیکھتے شکل گم ہو گئی، آئنہ رہ گیا یوں سمجھ سمجھ لیجیے گا کہ مضطر نہیں راہ میں ایک پتھر پڑا رہ گیا