اشکوں کے چراغ — Page 285
285 جس نے دیکھا اسے، دیکھتا رہ گیا دیکھ کر اس کو پھر اور کیا رہ گیا لوگ آئے، رکے اور چلے بھی گئے میں جہاں تھا کھڑے کا کھڑا رہ گیا ہاتھ جب بھی اُٹھائے دُعا کے لیے ایک میں، ایک میرا خدا رہ گیا مٹ گیا نقطہ مرکزی کا نشاں ایک موہوم سا دائرہ رہ گیا یوں تو شہ رگ سے بھی وہ قریب آگئے پھر بھی کچھ درمیاں فاصلہ رہ گیا سکرائے تو تھے وہ مری بات پر کچھ بھرم تو مری بات کا رہ گیا چاند نکلا تو چھوٹے بڑے ہو گئے نہ رہے، وہ جو تھے، جو نہ تھا رہ گیا