اشکوں کے چراغ — Page 273
273 کہہ رہا تھا نہ سن رہا کوئی عمر بھر بولتا رہا کوئی بات کے موڑ پر کھڑا کوئی جانے کیا سوچتا رہا کوئی اشک یوں رک گئے سر مژگاں جیسے گر کر سنبھل گیا کوئی سنگدل تھے تمام چھوٹے بڑے کوئی پتھر تھا ، آئنہ کوئی گھر میں آیا تو اپنے آپ سے بھی اجنبی کی طرح ملا کوئی اپنی تصویر ނ آئنے ނ لڑائی ہے نہیں گلہ کوئی موت کے بعد یوں لگا مضطر ! جیسے پیدا ہوا پیدا ہوا نہ تھا کوئی