اشکوں کے چراغ — Page 246
246 تو قریب رگِ جاں تھا فاصلہ اتنا کہاں تھا پہلے **** باندازہ جاں تھا پہلے غم کا یہ حال کہاں تھا پہلے راز جو دل میں لیے پھرتے ہیں صاف چہروں سے عیاں تھا پہلے یوں دل کھلونوں سے بہل جائے گا ایسا نہ گماں تھا پہلے لمس کی چوٹ سے باہر نکلا راز پتھر میں نہاں تھا پہلے اب کہاں دل پہ بھروسہ مضطر ! جو بھروسہ مری جاں! تھا پہلے