اشکوں کے چراغ — Page 233
233 ہوس کی وہ آندھی چلی شہر میں بجھی عشق کی آگ دو پہر میں برہنہ بدن ہیں سبھی شہر میں نہیں فرق کچھ ملک اور مہر میں فقیروں کے چھتر سلامت رہے محل یہ گئے ایک ہی لہر میں میں سقراط کو ہوں، مرے واسطے ملا دیجیے انگبیں زہر میں ضرورت ہے آج اس کی اخبار کو اُڑا دیجیے خبر شہر میں زمانے کی پہنائیوں سے نہ ڈر خدا آپ آباد ہے دہر میں بہت زور ماریں گے مضطر ! رقیب غزل ہو سکے گی نہ اس بحر میں