اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 226 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 226

226 ایک دو روز کی نہیں ہے بات جلتے جلتے ہی گھر جلے صاحب! خون آلوده زرد چہروں پر خاک بھی اب کوئی ملے صاحب! ان کو سکھلائیے گا استعمال لفظ ہیں کچھ برے بھلے صاحب! ان کی پہچان ہے فقط خوشبو لفظ گورے نہ سانولے صاحب! بات ہو مختصر، ارادہ نیک بول بھی ہوں بھلے بھلے صاحب! حسن و احسان ، لطف و جود و کرم اس حسیں کے ہیں مشغلے صاحب! جسم اس کا ہے، جان اس کی ہے اس کے ٹکڑوں پہ ہیں پلے صاحب! ہم نشیں کب کے جا چکے مضطر ! لیجیے! ہم بھی اب چلے صاحب! ( مارچ، ۱۹۹۵ء)