اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page xxvii of 679

اشکوں کے چراغ — Page xxvii

۲۴ 29-10-90 آپ کے منفرد کلام کی تعریف میں دو حرف ڈال دیے تو کون سی قیامت آ گئی۔آپ کی ہر غزل پر اگر ایک الگ خط لکھوں تب بھی حق ادا نہ ہو سکے گا۔پتہ ہے مجھے آپ کا کلام کیوں پسند ہے۔شعراء کے کلام سے الگ اس میں ایک اپنی سی دلکشی ہے۔سردست امتیازی جاذبیت کی صرف تین باتیں بتا دیتا ہوں۔پتہ تو آپ کو ہوں گی مگر اپنے انکسار کے باعث بھلا خود کب مانیں گے۔1۔کھری کھری سنانی اور پتھر مارنے والوں پر پتھر مارنے تو بہتوں کو آتے ہیں مگر شعر و ادب کی پنکھڑیوں میں لپیٹ کر پتھر مارنے کوئی آپ سے سیکھے۔پھر لطف یہ کہ پتھراؤ کا مزا بھی آتا ہے اور پنکھڑیوں کی نزاکت اور لطافت بھی مجروح ہوئے بغیر اپنے دلکش رنگ دکھاتی ہیں۔آپ سر اپنا پتھروں کے حضور پیش کرتے ہیں اور پتھراؤ مارنے والوں کے سروں پر۔جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔2۔سادہ سے لفظوں میں سر را ہے بظاہر یونہی عام سی بات کر جاتے ہیں لیکن ایک دو قدم آگے بڑھ کر پھر مڑنا پڑتا ہے۔ایک خلش سی پیدا ہوتی ہے کہ کوئی بات تھی جو نظر سے رہ گئی ہے۔بات بھی پھر ایسی گہری اور پر حکمت نکلتی ہے کہ دو قدم چھوڑ ہزاروں قدم واپس آ کر بھی حاصل ہو تو جواز سفر سے بڑھ کر نکلے۔3۔تیسری خاص بات یہ دیکھی ہے کہ مجال ہے جو کسی بھیٹر میں مل جل کر اپنی شخصیت گنوا بیٹھے ہوں۔شاہوں میں فقیرانہ گدڑی میں اور فقیروں میں شاہانہ لباس اوڑھے پھرتے ہیں۔کوئی دور ہی سے دیکھ کر کہے وہ دیکھو حمد علی کس سج دھج سے جارہا ہے۔ان کو کتنا مزا آتا ہوگا جو کہہ سکیں یا کہتے ہوں گے کہ یہ میرا محمد علی ہے۔ایک پیارا و جو درحمہ اللہ جو بجا طور پر یہ کہ سکتا تھاوہ اب ہم میں نہیں ہے۔بیسیوں ایسے ہوں گے جو