اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 213 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 213

213 میں بچھڑ تو گیا، جدا نہ ہوا مجھ کو فرقت کا غم ذرا نہ ہوا اشک آنسو تھا جب روانہ ہوا پھیلتے پھیلتے فسانہ ہوا اب عروس خرد کی بات کرو دل کا قصہ بہت پرانا ہوا دل کی چالوں سے بچ سکو تو بچو ایک عیار ہے یہ مانا ہوا لاکھ سمجھایا ، لاکھ دھمکایا گنہگار پارسا نہ ہوا نگھروں کے غریب خانے پر آپ ہی کیسے کیسے آنا ہوا لاکھ دعوے کیے خدائی کے بندہ بندہ رہا خدا نہ ہوا اس کی ستاریوں کے صدقے میں میں بُرا ہو کے بھی بُرا نہ ہوا ہوگئی کائنات زیر و زبر رات کا تیر تھا خطا نہ ہوا اس کا احساں ہے اس سے مل کر بھی جس کا ڈر تھا وہ حادثہ نہ ہوا دشمنوں سے بھی دشمنی نہ ہوئی دوستوں کا بھی حق ادا نہ ہوا یہ رہائی نہیں اسیری ہے میں رہا ہو کے بھی رہا نہ ہوا اس کے احسان کیسے گنواؤں جو خفا ہو کے بھی خفا نہ ہوا زندگی ہنس کے وار دی اس پر شکر کا پھر بھی حق ادا نہ ہوا دل کی دنیا بدل گئی مضطر! ان کے ہاں جب سے آنا جانا ہوا