اشکوں کے چراغ — Page 214
214 نذر غالب طائر غم جو کبھی نغمہ سرا ہوتا ہے دل کا ہر سوکھا ہوا زخم ہرا ہوتا ہے رات بھر ہوتی ہیں دل کھول کے دل کی باتیں ایک میں ہوتا ہوں، اک میرا خدا ہوتا ہے ریت کے سینے پہ جب ہوتا ہے لہروں کا خرام دشت در دشت کوئی سوچ رہا ہوتا ہے رقص فرماتے ہیں جس وقت غزالانِ خیال تو بھی خاموش کہیں پاس کھڑا ہوتا ہے پاس آداب نظر چاہیے اے محو جمال! آنکھ کیا ہوتی ہے اک شہر حیا ہوتا ہے پیاس تو پیاس ہے، بجھتی ہے یہ بجھتے بجھتے سینکڑوں کانٹوں میں اک آبلہ پا ہوتا ہے مضطر سوختہ جاں! بات سنبھل کر کیچو شعر بن جاتا ہے جو تیرا کہا ہوتا ہے