اشکوں کے چراغ — Page 212
212 چلتا چوک ہے چہرے چھپا لو یہاں ہر ایک نامحرم رکے گا کہیں تو ہے، وہ شہر طلب ہے چاند کا پرچم رکے گا عدم کی سرزمیں بھی آن پہنچی پرائے دیس کا ماتم رکے گا یہی رودِ چناب آرزو ہے یہیں تو چاند کا پرچم رکے گا زمانہ آئے گا ملنے کو مضطر! سیر مرقد بچشم نم رکے گا