اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 182 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 182

182 وہ چاہتا تھا کہ دو چار روز ہنس کے رہے یہ اور بات ہے سونے کے سانپ ڈس کے رہے میں جان دے کے بھی امسال مطمئن نہ ہوا سر صلیب بھی چرچے مری ہوس کے رہے فقیہ شہر نے قدغن لگا دی موسم پر جمال یار کے بادل مگر برس کے رہے ہزار بے وطنی تھی، ہزار بے بدنی گل مراد کی خوشبو میں شہر بس کے رہے نہ گل رہا ہے، نہ گل چیں، نہ رسم گل چینی رہی تو لمس کی لذت ، نظر کے چسکے رہے ہوا نہ ہو گا کبھی یہ ستم زمانے میں کہ گوجرے میں رہے یار، آپ ڈسکے رہے بدن سے مل کے بدن اور ہو گئے تنہا جو فاصلے تھے وہی فاصلے ہوس کے رہے مجھے جلا دے، مری آہ کو اسیر کرے اسے کہو کہ نہ درپے مرے قفس کے رہے کچھ ایسے بدلا ہے آئین گلستاں مضطر ! که تاب برق نہ اب حو صلے قفس کے رہے