اشکوں کے چراغ — Page 181
181 کبھی بہار کو ترسے ، کبھی خزاں سے ڈرے یہ پھول کھلنے سے پہلے ہزار موت مرے یہ اشک ہیں کہ حسینوں کے ہیں پرے کے پرے ڈھلے دھلائے ہوئے بانورے بنے سنورے نقاب پوش کھڑے ہیں صدا کی سرحد پر فصیل شہر خموشاں ہے آہٹوں سے پرے غروب ہو گئے چہرے، اُجڑ گئی محفل نه حسن جلوہ نمائے ، نہ عشق خوش نظرے صنم فروش ، صنم گر ، صنم پرست ہے دل یہ اور بات ہے کہتے ہوئے زباں سے ڈرے کبھی جو عہد گزشتہ کو لوٹ کر دیکھا دل و نگاہ نے کیا کیا نہ اس میں رنگ بھرے انھی کے فیض سے قائم ہے زندگی کی بہار خدا کرے کہ رہیں زندگی کے زخم ہرے خدا کرے کہ مری یاد بھول جائے اُسے میں اُس کو بھول سکوں ، یہ کبھی خدا نہ کرے پھرا کرے ہے اکیلا اُداس کیوں مصنطر ! نہ مسکرائے ، نہ بولے کبھی ، نہ آہ بھرے