اشکوں کے چراغ — Page 177
177 دل کی منزل بھی سر نہ ہو جائے بے صدا گھر کا گھر نہ ہو جائے میری فریاد کو نہ غور سے سن تیرے دل پر اثر نہ ہو جائے پھر کوئی آ رہا ہے جانب دل کہیں دل کو خبر نہ ہو جائے شب فرقت ہو تیری عمر دراز تو کہیں مختصر نہ ہو جائے غم دُنیا بھی خوب ہے پیارے! اس کی عادت اگر نہ ہو جائے حسن کی شان میں کوئی تقصیر تجھ سے اے بے نظر! نہ ہو جائے شب غم کے قرار ! آ جاؤ آ بھی جاؤ، سحر نہ ہو جائے تھام لے اب زبان کو مضطر ! گفتگو بے اثر نہ ہو جائے