اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 176 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 176

176 ارمغاں ہے یہ پیر کامل کا داغ ہے یا چراغ ہے دل کا وار اوچھا پڑا ہے قاتل کا دیدنی ہو گا رقص بسمل کا گر گئی اس کے ہاتھ سے تلوار جاگ اُٹھا ضمیر قاتل کا آپ طوفاں سے ڈر رہے ہوں گے مجھ کو کھٹکا لگا ہے ساحل کا جس قدر تھا قصور آنکھ کا تھا نام بدنام ہو گیا دل کا اب کے گزرا کچھ اس طرح طوفاں مٹ گیا ہے نشان ساحل کا منزلوں سے گزر رہے ہیں لوگ پوچھتے ہیں نشان منزل کا تیرے چہرے کی چاندنی کی قسم راستہ جگمگا اٹھا دل کا عقل کیا، عقل کی حقیقت کیا جمگھٹا سا ہے اک دلائل کا راستے پاس آ گئے منظر! رات قضہ چھڑا تھا منزل کا