اشکوں کے چراغ — Page 150
150 بال جب آئنے میں آنے لگا عکس اندر سے ٹوٹ جانے لگا آنکھ باقی رہی نہ تصویریں آئنہ آئنے کو کھانے لگا تھک نہ جائیں مری نحیف آنکھیں آتے آتے نہ اب زمانے لگا ہم نے صدیوں کو سہ لیا ہنس کر اب نہ لمحوں کے تازیانے لگا منزلوں کو اُجالنے اُجالنے والے! قافلوں کو کسی ٹھکانے لگا آنکھ ، آئینہ، عکس، سب تیرے کون یہ درمیاں میں آنے لگا لا الله کا ہو یا اَنَا الْحَقِّ کا کوئی نعرہ کسی بہانے لگا ނ معترض! کچھ تو پوچھ مضطر کوئی الزام ہی پرانے لگا