اشکوں کے چراغ — Page 146
146 تو ہی تھا مفہوم کا مالک لفظ تری خاطر اُترا تھا تیرے ہی چاکر تھے لمحے تو ہی صدیوں کا آقا تھا سب دروازے بند تھے لیکن اک تیرا در تھا جو کھلا تھا دُنیا تجھ کو ڈھونڈ رہی تھی تو سب کے ہمراہ کھڑا تھا سب کچھ کھو کر تجھ کو پایا سودا کتنا سنا تھا خوشبو بھی بے تاب تھی مضطر ! پھول بھی خوشبو کا رسیا تھا