اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 145 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 145

145 مجھ آنکھ میں جو آنسو لرزا تھا اس پر تیرا نام لکھا تھا صدی تھی یا شاید لمحہ تھا رک کر جو ملنے آیا تھا پر جو بادل برسا تھا بارش کا پہلا قطرہ تھا سب تیرے تھے ، تو سب کا تھا پھر بھی تو کتنا تنہا تھا! میرے اندر جو بچہ تھا میں جھوٹا تھا، وہ سچا تھا عہد نے جو پتھر پھینکا تھا میں نے اس کو چوم لیا تھا آنسو بھی دُھل کر نکلا تھا بادل بھی کھل کر برسا تھا سولی تھی مجھ سے بھی اُونچی میں سولی سے بھی اونچا تھا میں نے جو چہرہ دیکھا تھا وہ تجھ سے ملتا جلتا تھا جس دن تو ناراض ہوا تھا وہ دن بھی کتنا لمبا تھا تاریکی ہی تاریکی تھی سناٹا ہی سناٹا تھا آئینہ حیران کھڑا تھا اس نے تجھ کو دیکھ لیا تھا منزل کے اندر منزل تھی رستوں کے اندر رستہ تھا سب صدیاں تیری صدیاں تھیں ہر لمحہ تیرا لمحہ تھا اور بھی تھے دُنیا میں اچھے لیکن توس سب سے اچھا تھا