اشکوں کے چراغ — Page 136
136 کھلے رکھو دریچے گھر کے، شاید وہ آ جائے مگر شاید نہ آئے تم اپنے سائے میں آرام کر لو کہ رستے میں شجر شاید نہ آئے وہ دریا پار کا ہے رہنے والا پانی سے ڈر شاید نہ آئے کسی ٹہنی یہ کر لے گا بسیرا پرنده اب ادھر شاید نہ آئے کہیں زیر زمیں کر لے گا آرام مسافر اب کے گھر شاید نہ آئے کنارے توڑ کر نکلا ہے سیلاب کناروں کی خبر شاید نہ آئے جسے تم ڈھونڈتے پھرتے ہو مضطر! وہ منزل عمر بھر شاید نہ آئے