اشکوں کے چراغ — Page 127
127 جسم اب بھی ہے ، جان اب بھی ہے عشق کا امتحان اب بھی ہے اس پہ روح القدس اترتا ہے وہ سراپا نشان اب بھی ہے اب بھی پیاسی ہے سرزمین نجف دھوپ کا سائبان اب بھی ہے وہ اگر ہے تو ہم ہیں یعنی جان ہے تو جہان اب بھی ہے مجھ کو پروا نہیں زمانے کی مہربان اب بھی ہے وہ اگر جا چکا وہ مگر کف جاں پر نقش یا کا نشان اب بھی ہے ڑھے چکا کب کا قصر استبداد میرا کچا مکان اب بھی ہے