اشکوں کے چراغ — Page 115
115 سوچا بھی ہے کبھی کہ اے سرخیل دشمناں! میں ہوں مسیح وقت ، میں ہوں مہدی زماں ڈر میری آہ سے کہ ہوں مرزائے قادیاں بر من چرا کشی تو چنیں خنجر زباں از خود نیم ز قادر ذوالمجد اکبرم قرآن کے چمن سے ہدایت کے پھول نچن کچھ کام آئے گی نہ یہ خالی ادھیڑ بن میری نہ سن اے بے خبر ! اللہ کی توشن رو یک نظر به جانب فرقاں زغور کن تا بر تو منکشف شود این راز مضمرم غم ہے اگر مجھے تو فقط دین کا ہے غم اس غم سے سینہ چاک ہے، دل تنگ ، آنکھ نم مہدی بھی ہوں مسیح بھی، کچھ بیش ہوں نہ کم موعودم و محلیه ماثور آمدم حیف است گر بدیده نه بینند منظرم طوفان معجزات کا اُٹھا ہے یم بہ یم میں عہد کا کلیم ہوں، میں صاحب قلم تو جس کا منتظر تھا وہی ہوں برادرم! اینک منم که حسب بشارات آمدم عیسی کجاست تا بنهد پا منبرم