اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 102 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 102

102 ساحلوں کے تشنہ لب بارش کی پہلی بوند کو دیکھتی آنکھوں سمندر میں گرا دینے لگے راستوں کے بے تکے پن کا نہیں کوئی علاج دشت میں جا کر حوالہ شہر کا دینے لگے قافیوں سے لڑ پڑے تو پھاڑ دی ساری غزل جرم دیواروں کا تھا، گھر کو سزا دینے لگے ہجر کے بیمار کو مضطر! قرار آ ہی گیا زخم پھر بھی زخم تھے، آخر مزا دینے لگے