اشکوں کے چراغ — Page 99
99 درد دے، درد کے خزانے دے دینے والے! کسی بہانے دے کچھ نئے رنج ، کچھ پرانے دے مجھ کو لمحے نہیں زمانے دے بر سر دار آشیانے دے بے ٹھکانوں کو بھی ٹھکانے دے یا مرا مجھ سے فاصلہ کر دے یا نہ احساس کے خزانے دے ان کہی بات کو چھپا کر رکھ اس کو لب پر کبھی نہ آنے دے تو اگر مسکرا نہیں سکتا دوسروں کو تو مسکرانے دے مجھ کو اشکوں کا آئنہ لے کر شہر مسحور میں نہ جانے دے عشق کا اندلس ملے نہ ملے کشتیاں تو مجھے جلانے دے شارخ اُمید بھی ہری ہو جائے اس کو پت جھڑ کے تازیانے دے رنگ بھر لینا بعد میں مضطر ! مجھے کو تصویر تو بنانے دے