اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 91 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 91

91 وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا عشق تھا اور غائبانہ تھا جس حسیں سے تمھیں محبت تھی اس سے اپنا بھی عاشقانہ تھا وہ کہیں دل کے پار رہتا تھا فقط دل کا واہمہ نہ تھا وہ اس کی ہر ایک ہر ایک سے لڑائی تھی اس کا ہر اک سے دوستانہ تھا اس کے آنے پہ کس لیے ہو خفا اس نے آخر کبھی تو آنا تھا اس میں انوار تھے خدائی کے ہم نے مانا کہ وہ خدا نہ تھا وہ اسی کا تھا خاص بھیجا ہوا اس کا آنا خدا کا آنا تھا وہ شجر تھا گھنا محبت کا اس کے سائے میں بیٹھ جانا تھا بھول کر بھی نہ اس کو بھول سکے تعلق بہت پرانا تھا معتکف تھے قفس میں ہم مضطر! کہیں آنا کہیں نہ جانا تھا