اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 85 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 85

85 55 قصیدہ لامیہ اے احتیاط کے پتلے ! ابھی نہ بھیس بدل ابھی اُجالا ہے باہر، ابھی نہ گھر سے نکل وہ التفات کے بر سے ہیں رات بھر بادل زمین جاگ اٹھی ، سبز ہو گئے جنگل ستارے اس میں فروکش ہیں، چاند رہتا ہے بھری ہوئی ہے اجالوں سے جھیل اک شیتل ید اشک آنکھ کا گہنا ہیں، روح کی زینت رکیں تو نارِ جہنم، بہیں تو گنگا جل کبھی نہ شعر کے فنکار کی ہوئی تسکین بنا بنا کے گرائے غزل کے تاج محل تمام خار حسیں ہیں ، تمام گل محبوب نہیں ہے فرق کوئی طور ہو کہ بندھیا چل اس التزام سے ذکرِ جمالِ یار ہوا تمام شہر کے بیمار ہو گئے پاگل