اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 84 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 84

۔۔۔صوتی مجبوری 84 کل کو آج کے آئینے میں دیکھا ہے حال نے ماضی کو امسال سزا دی ہے آنکھ سمندر، سینہ اک پیاسا صحرا ان دونوں کا روگ بہت بنیادی ہے وسچی باتوں“ ނ ناحق بدنام ہوا عشق بھی عبدالماجد دریابادی ہے مضطر ! تم بھی جاؤ نا اس سے مل آؤ سچائی اس دھرتی کی شہزادی ہے