اشکوں کے چراغ — Page 83
83 اشکوں نے دل کی دیوار گرا دی ہے گھومنے پھرنے کی امشب آزادی ہے کس نے زخموں کی زنجیر ہلا دی ہے درباں! دیکھ کوئی باہر فریادی ہے پھول نے ہنس کر بگڑی بات بنا دی ہے جینا بھی شادی، مرنا بھی شادی ہے دشت نے چاہا تھا اس کو تسلیم کرے قیس نے اس کی یہ خواہش ٹھکرا دی ہے جس کی خاطر رو رو جی بلکان کیا عہد نے وہ آواز ہمیں لوٹا دی ہے فرصت ہو تو اب اس کی پہچان کرو ہم نے پانی پر تصویر بنا دی ہے دل کی دلّی کے کھنڈرات میں مقتل تک اس سے پرے آبادی ہی آبادی ہے