اشکوں کے چراغ — Page 67
67 پروفیسر سید عباس بن عبد القادر مرحوم کی شہادت پر جھگڑے ہے پھول پھول ،لڑے ہے کلی کلی ہوتا ہے ان دنوں یہ تماشا گلی گلی آیت کی طرح یاد ہے حفاظ شہر کو چہرہ وہ بھولا بھالا، وہ باتیں بھلی بھلی یادش بخیر کتنی حسیں غم کی رات تھی یہ دو گھڑی کی بات تھی جب تک چلی، چلی بارش ہوئی تو اور بھی جلنے لگی زمیں خاک نجف پکار اٹھی، اُٹھی، میں جلی جلی چہروں کے زرد چاند پڑے ہیں زمین پر مٹی میں مل رہا ہے یہ سونا ڈلی ڈلی لیٹے ہوئے ہیں کبر کے سائے زمین پر جیسے ہو دو پہر بھی ستم کی ڈھلی ڈھلی