اشکوں کے چراغ — Page 62
29 62 ان بھری گلیوں میں پھرتا رہ، اسی میں خیر ہے اپنے اندر جا چھپا تو لاپتا ہو جائے گا جب سر عہد وفا صدیاں جھنجھوڑی جائیں گی وقت کی زنجیر سے لمحہ رہا ہو جائے گا دامن آواز بھر جائے گا میرے خون سے آستیں خوش رنگ، چہرہ خوش نما ہو جائے گا عشق تو لا جائے گا جب موت کی میزان میں حسنِ بے پروا بھی مصروف دعا ہو جائے گا میں صلیب لفظ پر چڑھ جاؤں گا ہنستا ہوا یہ پرانا قرض بھی آخر ادا ہو جائے گا وہ مری آواز کا قاتل بھی ہے، مقتول بھی میرا اس کا آج کل میں فیصلہ ہو جائے گا کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا عہد بے آواز میں ہم جدا ہو جائیں گے یا وہ جدا ہو جائے گا پھر خدائی کا کیا دعویٰ کسی فرعون نے پھر سرِ دربار کوئی معجزہ ہو جائے گا اکثریت کا جو تم نے سانپ تھا پالا ہوا کیا خبر تھی بڑھتے بڑھتے اثر رہا ہو جائے گا بیچ کر عزت کو نکلا تھا وہ جس کے پھیر سے پھر اسی چکر میں مضطر! مبتلا ہو جائے گا (۱۹۸۴-۸۵ء)