اشکوں کے چراغ — Page 63
وہ ہنسنے کو تو ہنس رہا ہوئے گا مگر حال اس کا بُرا ہوئے گا مرا اس سے جو فاصلہ ہوئے گا مجھے بھی نہ اس کا پتا ہوئے گا وہ لمحہ جو امسال رک کر ملا خدا جانے کب کا چلا ہوئے گا جسے میرے ایماں کا بھی علم ہے وہ جھوٹا نہیں تو خدا ہوئے گا جمائی ہے سرخی جو اخبار نے سنا اس کو، تیرا بھلا ہوئے گا وہ آئے گا اخبار اوڑھے ہوئے عجب کاغذی سلسلہ ہوئے گا بھری بزم میں مسکرانے لگا بڑا ہی کوئی من چلا ہوئے گا 80 63