اشکوں کے چراغ — Page 40
40 40 ہوس کے جھگڑ کھٹکھٹار سے ہیں ڈھلی ہوئی ریت کے سپاہی تھلوں میں جذبات کے بگولے ہو او صحرا کے نیک راہب خموش ساحر چلے عبادت گزار بن کر ذہین بوڑھے بدن کے رہزن بھی ڈرتے ڈرتے خیال کے سارباں پجاریوں کا لباس اوڑھے ازل کے امیں صنم کدوں سے کسی بہانے ستاروں کے رازداں بتوں کے زیور لہو کے دانے یوں ٹھٹک گئے ہیں کہ جیسے حیران ہو گئے ہوں منہ جانے جمال کی نیلگوں فضا میں کیسے تارلائے نظر کے طائر غبار فردا کے سائے میں کئی مہینوں سے آرزو کی مورت غموں کی دیوی تکر ہے ہیں اسی پجاری کی منتظر ہے کہ جس کے غم میں اداس تنها نگاه گرداب گردِ ماضی کف تمنا کے بھوج پر پہ امید کی کہکشاں پہ زینے لگاؤ شاید دکھائی دے دیں سراب ریگ رواں کے سینے پر چندٹوٹے ہوئے زائچے سے بنارہی ہے سفینے ی ان گنت باوقار ٹیلے