اشکوں کے چراغ — Page 614
614 وہ میری ماں ہے اسے اس یقیں سے ملتا ہوں میں جب بھی ملتا ہوں جھک کر زمیں سے ملتا ہوں بلندیوں کا ثناخواں ہوں پستیوں کا امیں میں آسماں سے اتر کر زمیں سے ملتا ہوں وہ دیکھ لیتا ہے میرے اندر کی میں آئینے ނ نہیں ہم سے ملتا ہوں نشیں وہ حرف و صوت کا قاتل پکار کر بولا میں ایک سانپ ہوں اور آستیں سے ملتا ہوں اسی کا بھیجا ہوا ہوں اسی کے کہنے پر جہاں پہ اترا ہوں مضطر وہیں سے ملتا ہوں