اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 587 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 587

587 بھی وہ عہد کا حسیں بولے جب عرش بولے، بھی زمیں بولے جب وہ بولے تو ساتھ ساتھ اس کے ذره ذره ذره بصد یقیں بولے چاند سورج گواہی دیں اس کی اُس کا منکر نہیں نہیں بولے شور برپا ہے برسردار اک من حسیں مقتل میں بولے اشک ہی تھے جو چپ رہے، یعنی اشک ہی تھے جو بہتریں بولے کرے اپنے جرم کو تسلیم کس لئے مار آستیں بولے ہمارا ہی حوصلہ ہے میاں قتل ہو کر بھی ہم نہیں بولے قتل ناحق کس لئے مضطر چپ رہے آپ، کیوں نہیں بولے