اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 586 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 586

586 عشق کے اعلان کے سو سال نہیں تھے لذت سے لرزتے ہوئے لمحوں کی لڑی تھی ہم لوگ بڑے چین سے بیٹھے تھے بھنور میں تاریخ بھی حیران کنارے یہ کھڑی تھی مضطر پس آواز کوئی تھا جو کھڑا تھا واللہ ہمیں اس سے محبت بھی بڑی تھی