اشکوں کے چراغ — Page 585
585 اس عہد کے آسیب کو کرسی کی پڑی تھی مخلوقِ خدا تھی کہ پریشان کھڑی تھی علماء سوء اس لمحہء بیدار سے جب آنکھ لڑی تھی دن حشر کا تھا اور قیامت کی گھڑی تھی ہم تھے تو فقط تیری طرف محو سفر تھے رستہ بھی خطرناک تھا منزل بھی کڑی تھی ہم عہد اذیت میں اکیلے تو نہیں تھے اُس عہد کی آواز بھی ہمراہ کھڑی تھی اے دیدۂ گریاں! یہ مرے اشک نہیں تھے آیات کی برسات تھی ساون کی جھڑی تھی امسال تو قاتل بھی کسی کام نہ آیا ہر چند کہ اس شوخ سے امید بڑی تھی کیا جانیے کیوں پڑھ نہ سکی فرد عمل کو یہ قوم * سنا ہے کہ بہت لکھی پڑھی تھی