اشکوں کے چراغ — Page 12
12 اشکوں میں ہیں آنا کی چٹانیں چھپی ہوئی جیسے سمندروں میں ہمالے پڑے ہوئے رہزن کا یوں پڑاؤ ہے رادھا کے کنڈ پر جنگل میں جس طرح ہوں گوالے پڑے ہوئے دل سر بہ مہر ، کانوں میں روٹی بھری ہوئی آنکھوں میں اختلاف کے جالے پڑے ہوئے باہر اٹھا کے پھینک دیے بت غرور کے کب سے تھے یہ مکان میں سالے پڑے ہوئے تجدید عہد کے لیے پڑھتا ہوں بار بار گھر میں ہیں کچھ پرانے رسالے پڑے ہوئے مضطر کو فکر عصمت ایمان و آگہی یاروں کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے