اشکوں کے چراغ — Page 530
530 پھر شب دیجور دروازه کھلا کا باب اک تازہ کھلا کون کافر ہے، مسلماں کون کون ہے کھلا ہو گیا خلقت کو اندازہ آگ اور پانی گلے ملنے لگے بیربل سے ملا دوپیازہ کھلا کھلے کھلتے اس بت عیار کا ہر قدم پر جھوٹ اک تازہ کھلا پارہ پارہ ہو گئی دل کی کتاب بیچ چوراہے کے شیرازہ کھلا بے خبر شہر عشق کا پہلے ہی رات دن رہ دروازہ کھلا رہتا میں شہید عشق ہوں، رُخ پر مرے اشک اور الہام کا غازہ کھلا ہے چھپ کے پیتا ہوں فقیہ شہر سے کر رہا ہوں ذکر خمیازہ کھلا آسماں سے بات کرنے کے لیے کوئی تو رہنے دو دروازہ کھلا