اشکوں کے چراغ — Page 521
521 کیوں اشک آنکھ سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں کہ اُس کو دیکھنے والے سنبھل کے دیکھتے ہیں سنا ہے دید کے قابل ہے اُس کی ہر اک بات یہ بات ہے تو چلو ہم بھی چل کے دیکھتے ہیں“ سنا نا ہے اُس کے لیے آسمان پر ہے شور زمیں پہ سلسلے جنگ و جدل کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو الفاظ فرط لذت سے حريم صوت سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں سنا ہے جب وہ سر بزم مسکراتا ہے تو جھوم جاتے ہیں عاشق ، مچل کے دیکھتے ہیں سنا ہے اُس نے کہا تھا یہ ایک آمر سے کہ ہوشیار! فرشتے اجل کے دیکھتے ہیں سنا ہے ہاتھ اٹھائے اگر دعا کے لیے تو حادثات ارادہ بدل کے دیکھتے ہیں