اشکوں کے چراغ — Page 518
518 ناز ہے مجھ کو بھی ان کے پیار پر اور اپنے طالع بیدار پر شیخ بے کردار کے اصرار پر فیصلہ لکھ دیجیے دیوار پر ٹوٹ کر باز واگیں گے صحن میں جسم برسیں گے در و دیوار پر کوئی شکوہ ہے نہ اب کوئی گلہ چین سے بیٹھے ہیں اوج دار پر جھوٹ لکھیے اور لکھتے جائیے اب کوئی قدغن نہیں اخبار پر اب کہیں دیوار کا سایہ نہیں کس کا سایہ پڑ گیا دیوار پر کیا عجب کوئی خبر سچی بھی ہو ڈال لیجے اک نظر اخبار پر عشق کہتا ہے کہ میں تیار ہوں عقل کو انکار ہے کیوں اسے مضطر! یقیں آتا نہیں صبح پر اور صبح کے آثار انکار پر