اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 517 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 517

517 اک حسیں پر جسم اور جاں وار کر جیت لی تھی ہم نے بازی ہار کر شاید آجائیں وہ ملنے کے لیے دار پر بیٹھے ہیں دھرنا مار کر بول سکتا ہے تو بول اس جبس میں کر سکے تو جرأت اظہار کر جرم ہے گر اعتراف عشق بھی جرم کر اور بر سر دربار کر کر کے دشمن کو تہ دل سے معاف پھر سے لا تقریب کی تکرار کر پیار کے عادی نہ ہو جائیں کہیں ہم حقیروں سے نہ اتنا پیار کر میں بھی پیاسا ہوں کسی کی دید کا میرے اندر بھی ہے اک تھر پارکر کون سچا اور جھوٹا کون ہے فیصلہ خود ہی، بتِ عیار! کر کچھ نہیں تو ہم فقیروں کے خلاف کوئی سازش ہی پس دیوار کر تاب لائے گا کہاں سے دید کی حد فاصل کو نہ مضطر! پار کر ( ۴ / دسمبر ، ۱۹۹۵ء)