اشکوں کے چراغ — Page 516
516 وصف جمالِ یار پرختم ہے میری شاعری اللہ کرے کہ حسن کی کھیتی رہے ہری بھری شعلہ بغیر سوز کے شعلہ نہیں ہے، رنگ ہے درد بغیر شاعری کیا ہے سوائے دل لگی منزل شوق کے قریب درد کا مارا سو گیا گردِ سفر میں چھپ گئی منزلِ دل کی دلکشی جب بھی دیار عشق میں ہوش کی بستیاں بسیں درد کے شہر اجڑ گئے ، غم کی بساط الٹ گئی تیرے جمال کی حدیں گر دنظر میں کھو گئیں گرد نظر کا واسطہ رُخ بھی دکھا کبھی کبھی اُٹھی ، گھری، برس گئی تیرے جمال کی گھٹا دل کا غبار دُھل گیا، تھم گیا شورِ آگہی ہوش کی دُھند چھا گئی ذہن کے آسمان پر تارے غروب ہو گئے، چاند رہا نہ چاندنی مضطر بے قرار سے کہہ دو کہ شور مت کرے درد جگر کا تذکرہ اچھا نہیں گھڑی گھڑی (۱۹۴۴ء)