اشکوں کے چراغ — Page 482
482 کہاں گئے احرار، کدھر ہیں قوم کے ٹھیکیدار جس کا کھائیں اسی کا گائیں یہ ازلی غذار سُن پر دیسی! گر تو مانے دل کی بات بتاؤں مرجاؤں پر بھیک نہ مانگوں ، ہاتھ نہ یوں پھیلاؤں بھیک منگوں کی ٹولی بولی آئے ہو بڑے غیور ان داتا کے دان کو کیسے کر دیں نامنظور مانگیر کے بیٹے ہیں سیہ، نیو کی اولاد لالہ جی کے خوف سے رورو کرتے ہیں فریاد جان گئی، عزت لٹوائی، شرم نہ رہ گئی کوئی سکھوں کو داماد بنایا، ہندو کو بہنوئی غیرت ہی کو چھوڑ چکے جب بے غیرت انسان کس کی بہن اور کہاں کی بیٹی؟ کیسا پاکستان؟ قسمت پھوٹی ، ہمت ٹوٹی ، ٹوٹ گئی شمشیر بے غیرت کو ناممکن ہے مل جائے کشمیر غور کرو تو موت حیات کے جھگڑے ہیں سب بیچ ماضی بیچا، حال بھی بیچا، مستقبل مت بیچ جیب ہے خالی ، پیٹ ہے خالی، خالی ہے کشکول جان گئی ، عزت مت جائے ، عزت ہے انمول تم محمود کے بیٹے ہو اور احمد کے فرزند خون کے دھبے خون سے دھوؤ گر ہو غیرت مند