اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 476 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 476

476 اب موڑ دو رُخ آوازوں کے در بند کرو دروازوں کے لب پر نہ فغاں کو آنے دو جاں جلتی ہے جل جانے دو طوفانوں سے مت گھبراؤ تم ساحل ساحل آ جاؤ اظہار کی راہیں لمبی ہیں آہوں کی بانہیں لمبی ہیں ان بانہوں کو مت پھیلاؤ خاموش رہو یا سو جاؤ