اشکوں کے چراغ — Page 473
473 تمہید کی اتنی بھی ضرورت تو نہیں کچھ اور ہی شے تھی یہ وضاحت تو نہیں تھی کہتے ہو کہ یہ کوئی شہادت تو نہیں تھی اور قرب قیامت کی علامت تو نہیں تھی اتنا تو کیا، قتل کا فتویٰ دیا تم نے تھا کہ تمھیں اس کی بھی فرصت تو نہیں تھی کو تو ندامت کا پسینہ بھی نہ آیا کیا جانیے کیا تھی، یہ ندامت تو نہیں تھی مقتول نے لکھی تھی وہ تقدیر لہو سے لکھنے کی جسے اس کو بھی قدرت تو نہیں تھی ہاں ہاں تمھیں اس روز بڑی داد ملی تھی وه داد مگر دادِ شجاعت تو نہیں تھی اب قتل کے بعد آئے ہو مقتول سے ملنے اس طرفہ تکلف کی ضرورت تو نہیں تھی