اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 451 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 451

451 ہر پھول انتخاب ہے، خوشبو لباس ہے تو اس ہجوم حسن میں بھی کیوں اداس ہے جس کو شعورِ ذات کی خلعت نہیں ملی پھول بیچ باغ کے بھی بے لباس ہے وہ مسرور ہو رہا ہے سر اوج دار غم یہ غم شناس بھی بڑا لذت شناس ہے کس کے لہو سے ہے یہ لبالب بھرا ہوا قاتل کے دست ناز میں کیسا گلاس ہے سب راستے گزرتے ہیں اس کے قریب سے صحرائے نینوا میں جو چیرنگ کراس ہے ڈھونڈتے پھرو ہو میاں! جس حسین کو اس کا کوئی بدن ہے نہ کوئی لباس ہے سولی پہ سو رہے ہو سر اوج احتمال مرنے کا حوصلہ ہے نہ جینے کی آس ہے بستے ہیں اس میں سینکڑوں کثر دم ، ہزار سانپ غافل ! جو تیری عقل کے آنگن میں گھاس ہے