اشکوں کے چراغ — Page 440
440 مجھ کو اپنے غم کا اندازہ نہ تھا غم کی دیواریں تھیں، دروازہ نہ تھا یہ صدا تھی میرے دل کے چور کی گنبد گردوں کا آوازہ نہ تھا یہ سزا تھی میرے حسن ذوق کی عشق کی لذت کا خمیازہ نہ تھا تھے دریچے بند پھولوں کے ابھی منتشر خوشبو کا شیرازہ نہ تھا جم رہی تھی اس پہ دھول ایام کی پھول تھا لیکن تر و تازہ نہ تھا بیربل کیوں شہر کے گھبرا گئے وہ فقط ملا تھا، دو پیازہ نہ تھا معجزه مضطر ! تھا کردار کا فقط گفتار کا غازہ نہ تھا