اشکوں کے چراغ

by Other Authors

Page 437 of 679

اشکوں کے چراغ — Page 437

437 وہ پل صراط صدا پار کر ہی جائے گا کٹھن ہے مرحلہ لیکن گزر ہی جائے گا وصال رُت میں سما جائے گا دل و جاں میں سمندروں میں یہ دریا اتر ہی جائے گا اسے کہو کہ نہ تاریخ سے ملے ہرگز اگر ملا تو ندامت سے مر ہی جائے گا پرانے سال کو اب ریزہ ریزہ کر ڈالو کہ جب بھی جائے گا یہ ٹوٹ کر ہی جائے گا شہر نامہ دل ہے اسے بغور پڑھو کہ دن چڑھے تو نظارہ بکھر ہی جائے گا خدا کرے کہ ترا دل امیر ہو جائے زر مراد سے دامن تو بھر ہی جائے گا اندھیری رات میں تنہا کبھی نہ چھوڑے گا سحر مثال ہے وہ تا سحر ہی جائے گا