اشکوں کے چراغ — Page 415
415 سحر پسند تو سب ہیں، سحر چشیدہ نہیں امیر شہر میں کوئی بھی شب گزیدہ نہیں ނ لگے ہو کر نے تو سارے گلے کروان۔دو، تین ، چار نہیں اور چیدہ چیدہ نہیں اسے یہ زعم کہ مالک ہے وہ خدائی کا خدا کا شکر ہے واعظ خدا رسیدہ نہیں ازل سے کہتے چلے آئے ہیں حریف اسے جو بات تم نے کہی ہے وہ ناشنیدہ نہیں یہ وہ کتاب ہے جو عمر بھر اترتی ہے مرا یقین ہے یہ سرسری عقیدہ نہیں تمھارے ہاں بھی تو آیا تھا عہد کا یوسف یہ اور بات ہے تم نے اسے خریدا نہیں جو ملنا چاہو تو اس سے ملا بھی سکتے ہیں ہمارا اس کا تعلق بہت کشیدہ نہیں